ابنا: اطلاعات کے مطابق عالمی مارچ برائے بیت المقدس کے بعض شرکاء نے تہران میں بات چیت کرتے ہوئے فلسطین کو عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کسی خاص گروہ یا قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے اور سب کو چاہے وہ کسی بھی دین سے تعلق رکھتے ہوں صہیونی ریاست کے مقابل فلسطین کی مدد کرنی چاہیے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے عالمی مارچ کے ایک رکن عارف کپاڈیا نے مسئلہ فلسطین کو دنیا کا ایک اہم سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل سے دنیا میں قیام امن اور امپیریلزم اور صیہونزم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی عالمی مارچ کی رکن محترمہ موسویتا نے کہا کہ ہم نے یہ مارچ شروع کیا ہے تاکہ دنیا والوں کو بتا سکیں کہ فلسطینی عوام مظلوم ہیں اور ان پر ظلم ہو رہا ہے۔واضح رہے کا عالمی مارچ برائے بیت المقدس میں انڈونیشیا، ہندوستان، پاکستان، ایران، ملیشیا، فلپائن، جاپان، سری لنکا، بنگلہ دیش، جمہوریہ آذربائیجان، عراق، بحرین، سعودی عرب، افغانستان اور تاجیکستان سے نمائندے شامل ہیں۔یہ کارواں جمعہ کے روز تہران پہنچا اور مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا تیس مارچ کو لبنان پہنچے گا اور قدس شریف سے نزدیک ترین علاقے میں دنیا کے دوسرے ملکوں سے آنے والے قافلوں کے ساتھ مل جائے گا۔....... /169
19 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 303672
عالمی مارچ برائے بیت المقدس کے شرکاء نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے ملت فلسطین کی مدد کرے۔